ابنا: علامہ صاحب کا محافظ اور ڈائیور شدید زخمی تھے ابتدائی چیک اپ کے بعد انہیں آغا خان ہسپال شفٹ کیا گیا، محافظ اور ڈائیور زخموں کا تاب نہ لاتے ہوئے جانبحق ہوگئے تاہم الحمدللہ علامہ صاحب خطرے سے باہر ہیں اور مکمل طور پر ہوش و ہواس میں گفتگو بھی کر رہے ہیں، رات کی ابتدائی رپورٹ کے مطابق اندرونی چوٹیں آئی ہیں چونکہ پہلے بھی ان کے ساتھ ایک حادثہ پیش آ چکا ہے اس کی وجہ سے وہ تکالیف اور بالخصوص کمرکی تکلیف میں ریپیٹ ہوئی ہے مزید دعاؤں کی ضرورت ہے اللہ تعالیٰ جلد انہیں شفاء کاملہ اور عاجلہ عطا فرمائے ۔جعفریہ پریس کے نمائندے نے سوال کیا کہ علامہ صاحب کا ہنستا مسکراتا چہرہ کب تک قوم کے درمیان نظر آئے گا تو علامہ فیاض مطہری نے کہا کہ عنقریب اپنی قومی خدمات میں مصروف ہوںگے، فیس بوک پر ویڈیو بھی جاری کردی ہے، گھبرانے اور پریشانی کی بات نہیں ہے لیکن چونکہ کمرکی تکلیف ہے تو ڈاکٹرز دو ماہ آرام کا کہہ رہے ہیں جو ضروری بھی ہے۔ انہوں نے کہا کہ علامہ صاحب قوم میں ہردل عزیز شخصیت ہیں ان سے محبت کرنے والوں کے ملک بھر اور باہر سے ہمدردی کے ٹیلفون آ رہے ہیں، رات گئے تک آغاخان اسپتال میں بہت بڑا رش تھا، علماء کرام، سماجی مذہبی شخصیات اور تنظیمی کارکنان سمیت جے ایس او اور جعفریہ یوتھ کی کثیر تعداد موجود تھی ہر ایک اپنے احساسات ، جذبات اور والہانہ محبت و عقیدت کا اظہار کر رہا تھا سب کے لبوں پرایک ہی جملہ تھا کہ علامہ صاحب قومی سرمایہ ہیں اللہ انہیں اپنے حفظ و امان میں رکھے اس موقع پر ایک شخص کا کہنا تھاکہ علامہ شہنشاہ نقوی کو اللہ تعالیٰ نے بچا لیا ہے اور معجزانہ طور بچے ہیں، شاید اللہ ان سے بہت بڑا کام لینا چاہتا ہے۔ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ابھی یہ کہنا قبل از وقت ہے کہ یہ حادثہ عمدی تھا یا محض انسانی غلطی کا نتیجہ تاہم اس پرتحقیقات ہو رہی ہیں ہماری ٹیم اس پر بھی کام کر رہی ہے۔
.....
/169